
واقعہ معراج
واقعہ معراج پر مبنی اس تھریڈ میں ، میں جو کچھ بھی لکھوں گا ، نہ ہی یہ سب سائینس فِکشن ہے اور نہ ہی سوڈو سائینس ۔ میرا یہ تھریڈ لکھنے کا مقصد ہمیشہ کی طرح اللہ کی قدرت کی عظیم ترین نشانیوں کو اس پہلو سے سٹڈی کرنا ہے جس پر اردو میں بہت ہی کم کام کیا گیا ہے اور وہ ہے واقعات کا
سائنٹیفیک پہلو !
واقعہ اسراء اور معراج حضور اکرم ﷺ کے اپنے جسم مبارک کے ساتھ مسجد الحرام سے مسجد الاقصیٰ اور پھر وہاں سے سات آسمانوں اور سدرۃ المنتہیٰ تک کے سفر کو کہتے ہیں یہ بات ہم سب جانتے ہیں ۔ یہ واقعہ ایک ہی رات کے کچھ حصے میں واقع ہوا اور اس میں یقیناً اللہ تعالیٰ کی
کچھ بڑی ترین نشانیاں واضح ہیں جنہیں سائینٹیفیک کمیونٹی کی زبان میں لکھنا ہی اس تھریڈ کا مقصد ہے ۔
میرے اس واقعے کی تحقیق کا آغاز تب ہوا جب میری نظر حدیث معراج میں نبی کریم ﷺ کے پہلے آسمان پر پہنچنے کے لیے استعمال ہوئے الفاظ پر پڑی ۔ لیکن اسے ڈسکس کرنے سے پہلے میں آسمان کے بارے
میں کچھ لکھ دوں ۔ آسمان کیا ہے ؟ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ دن کو بادلوں کے اوپر نظر آنے والی نیلی چیز آسمان ہے تو آپ غلط ہیں ۔ وہ نیلا رنگ تو صرف زمین کا
atmosphere
ہے ۔ ہوتا یہ ہے کہ جب سورج کی 7 رنگوں پر مشتمل روشنی ہماری زمین کے
atmosphere
میں داخل ہوتی ہے تو چونکہ نیلی روشنی کی
wave-length
سب سے کم ہوتی ہے اس لیے وہ دوسرے رنگوں کی نسبت فضاء میں سب سے زیادہ پھیل جاتی ہے اس لیے ہمیں اوپر پھیلی ایک نیلی چادر نظر آتی ہے جسے عرف عام میں آسمان کہہ دیا جاتا ہے ۔ ورنہ اگر آپ اس وقت آسمان کی طرف چلنا شروع کریں تو زمین کے اوپر 6.5 میل تک کی
موٹی تہہ
troposphere
کہلاتی ہے ۔ دنیا کا تقریباً تمام موسم اس ہی تہہ میں وقوع پذیر ہوتا ہے ، ہم خود بھی اس ہی تہہ میں رہتے ہیں حتیٰ کہ وہ بادل بھی جو آپ کو انتہائی دور نظر آئیں اس ہی تہہ میں پائے جاتے ہیں اور دنیا کی تقریباً تمام زندگی اس ہی تہہ میں رہتی ہے ۔ اس تہہ کے اوپر
مزید 31 میل موٹی تہہ
stratosphere
کہلاتی ہے یہ وہ تہہ ہے جس میں بدنام زمانہ اوزون لیئر پائی جاتی ہے اور اس تہہ کے نچلے حصے میں کمرشل فلائیٹس اور درمیانے حصے میں چند جاسوسی طیارے سفر کرتے ہیں ۔
اس مقام سے اوپر 53 میل مزید ایک موٹی تہہ ہے جسے
mesosphere
کہتے ہیں یہاں پر انسان کے
لیے زندگی ناممکن ہے کیوں کہ ایک تو ٹمپریچر 90- ڈگری تک گر جاتا ہے اور دوسرا یہاں ہوا نہ ہونے کے برابر ہے ۔ البتہ زمین کی طرف ٹوٹ کر گرنے والے شہاب ثاقب اس تہہ میں داخل ہوتے ہی جل جاتے ہیں ۔ اس کے اوپر پھر مزید 300 میل موٹی ایک تہہ جسے
thermosphere
کہتے ہیں یہ وہ تہہ ہے جہاں زیادہ
تر سیٹلائیٹس زمین کے گرد گردش کرتے ہیں اور اس دنیا کی خوبصورت ترین سبز روشنیاں جو صرف گنتی کے چند ممالک میں نظر آتی ہیں اور جنہیں
aurora lights
کہتے ہیں ، اس ہی تہہ میں جنم لیتی ہیں ۔ اور یہ ہماری زمین کی آخری حدود ہیں جن کے بعد پھر کھرب ہا کھرب میل کی خلاء کا آغاز ہو جاتا ہے ۔
تو پھر نبی کریم ﷺ کی معراج یقیناً اوپر نظر آنے والے اس نیلے آسمان کی تو نہیں ہو گی ۔ آپ کو یاد ہو گا کہ حدیث معراج میں براق نامی ایک جانور کا ذکر ہے جو نبی کریم ﷺ کو سواری کے لیے پیش کیا گیا ؟ براق کا ہر قدم وہاں پڑتا تھا جہاں تک نگاہ کی دیکھ سکنے کی حد ہوتی تھی ۔ تو سوال یہ
پیدا ہوتا ہے کہ حد نگاہ کیا ہے ؟
جب ہم زمین پر کھڑے ہو کر دور تک دیکھتے ہیں تو چونکہ زمین گول ہے اس لیے ہماری حد نگاہ افق ہے جو تقریباً 10 کلومیٹر فاصلے کے اندر اندر تک ہوتا ہے لیکن اگر زمین بالکل چپٹی ہوتی تو انسانی آنکھ کی ساخت اس قابل ہے کہ 48 کلومیٹر تک دیکھ سکتی تھی ۔
البتہ جب ہم آسمان کی طرف دیکھتے ہیں جو ہماری حد نگاہ حیرت انگیز حد تک بڑھ جاتی ہے ۔ جیسا کہ چاند ہم سے پونے چار لاکھ کلومیٹر دور ہے اور ہمیں صاف نظر آتا ہے ، سورج جو ہم سے 15 کروڑ کلومیٹر دور ہے مگر صاف نظر آتا ہے ۔ ایک صاف ستھری رات میں 9000 تک ستارے نظر آ سکتے ہیں جن میں ہم سے سب سے دور کا ستارہ
deneb
نامی ہے جو ہم سے ساڑھے سات ہزار کھرب کلومیٹر دور ہے ۔ اس مقام پر پہنچ کر ہمیں فاصلوں کو ماپنے کے لیے کلومیٹرز کے لفظ کو ترک اور لائیٹ ایئرز کے لفظ کو استعمال کرنا پڑتا ہے ۔ ایک لائیٹ ایئر کا مطلب ہے کہ روشنی کی رفتار ایک سال میں جتنا فاصلہ طے کر لے اور آپ
کے علم کے لیے بتا دوں کہ ایک لائیٹ ایئر تقریباً 94 کھرب کلومیٹر کے برابر ہوتا ہے ۔
تو کیا حد نگاہ
deneb
نامی ستارے تک ہے ؟ نہیں ، بلکہ انسان کی حد نگاہ
andromeda
نامی وہ کہکشاں ہے جو ہماری دنیا سے پچیس لاکھ لائیٹ ایئرز کے فاصلے پر ہے یعنی دوسرے الفاظ میں اینڈرومیڈا نامی اس
کہکشاں سے نکلی روشنی ہم تک پہنچنے میں پچیس لاکھ سال لیتی ہے اور یہ اس قدر عظیم دوری ہے کہ اسے کلومیٹرز میں بیان کرنا ممکن نہیں اور ایک عام نظر والے شخص کی یہی حد نگاہ ہوتی ہے ۔
معراج کی رات نبی کریم ﷺ کی سواری براق یقیناً حد نگاہ کی رفتار سے سفر کر رہا تھا ۔ البتہ ہماری وسیع تر
کائینات میں پچیس لاکھ لائیٹ ایئرز کے فاصلے نسبتاً بہت قریب کے ہیں اس بات کو آپ ایسے سمجھ لیں کہ آج تک ہم نے جو سب سے دور کی کہکشاں دریافت کی ہے ، اس کی روشنی ہم تک پہنچنے میں 14 ارب سال لگا چکی ہے ۔
اور اس ہی مقام پر پہنچ کر میں حدیث شریف کے اس جملے کا ذکر کروں گا جس سے مجھے
لگا کہ وہ جملہ واقعہ معراج کے سائینٹیفیک پہلو کو سمجھنے کی چابی ہو سکتی ہے اور وہ جملہ ہے ‘‘حتیٰ آتیٰ سماء الدنیا فاستفتح’’ ترجمۃ : یہاں تک کہ آسمان دنیا آیا اور اسے کھولا گیا ۔
اگر آپ آئین سٹائین کے نام سے واقف ہیں تو آپ نے کہیں نہ کہیں اس کی مشہور زمانہ ‘‘تھیوری آف ریلیٹیویٹی
یعنی
E=MC2
لکھی دیکھی ہو گی ۔ یہ وہ تھیوری ہے جس نے کئی ایجادات اور تھیوریز کو جنم دیا اور سب سے بدنام ایجاد تو شائد نیوکلیئر بم ہے اور مشہور تھیوریز میں سے ایک تھیوری یہ تھی کہ کائینات میں ایسی جگہیں ضرور ہوں گی جن کی گرد کشش ثقل اس قدر طاقتور ہو کہ وہ روشنی کو اپنے اندر قید
کر لیں یا پھر اس کا رخ موڑ دیں ۔ اور سو سال پہلے کی گئی اس پیشن گوئی کو آج ہم ایک بلیک ہول کے نام سے جانتے ہیں ۔ لیکن میں ، بلیک ہولز کے بارے میں بات نہیں کر رہا ۔
میری توجہ حاصل کی اس تھیوری کے پہلے حصے یعنی لامحدود حد تک طاقتور کشش ثقل نے ، اور میں بات کر رہا ہوں آئین سٹائین
کی E.F.E تھیوری سے ہوئی ایک پیشن گوئی کی کہ کائینات میں ایسی جگہیں بھی ضرور ضرور ضرور موجود ہوں گی جو کائینات کی دو مختلف جگہوں اور دو بالکل مختلف زمانوں کے درمیان دروازے کا کام کریں گی ، اگر اس دروازے کو کھول دیا جائے تو اس میں سے گزر کر آپ ایک الگ دنیا اور ایک الگ زمانے میں جا
سکتے ہو اور اس دروازے کو انہوں نے
einstein-rosen bridge
کا نام دیا ۔
اس کانسیپٹ کو آپ آسانی سے ایسے سمجھ لیں کہ اگر آپ کاغذ کے دو کناروں کو ملانا چاہیں تو ایک سادہ سا طریقہ تو ہو گا کہ دونوں کناروں کے درمیان ایک لکیر کھینچ دی جائے ، لیکن اگر میں اس ہی کاغذ کو فولڈ کر دوں یا رول
کر دوں تو دونوں کنارے ایسے مل جائیں گے کہ اس سے چھوٹا شارٹ کٹ ممکن نہیں ۔ اور یہی کام
einstein-rosen bridge
کر سکتا ہے ۔ کائینات کی جس جگہ پر کشش ثقل ارب ہا ارب ٹن فی سکوئیر اِنچ ہو جائے وہاں خلاء کاغذ کے دو کناروں کی طرح بینڈ ہو جاتی ہے ، مُڑ جاتی ہے اور نتیجتاً دو مختلف جگہوں
کے درمیان آنے جانے کے لیے ایک داخلی راستہ بن جاتا ہے ۔
اس تھیوری کے تحت کائینات میں ایسے پوشیدہ دروازوں کا ہونا ثابت ہو چکا ہے جو بند رہتے ہیں ، جو ہمیں بہت تیزی سے ایک دوسری دنیا میں لے جا سکتے ہیں لیکن یہ دروازے بند کیوں رہتے ہیں ؟ اس کا سادہ سا جواب ہے ، ان کے گرد پائی جانے
والی ناقابل تصور کشش ثقل لیکن ایک انتہائی اہم سوال کہ کیا ان دروازوں کو کھولا جا سکتا ہے ؟ اس کا جواب ہے ہاں ، ناقابل تصور حد تک طاقتور
negative mass
کی طاقت سے ان بند دروازوں کو کھولا جا سکتا ہے ۔
لیکن
negative mass
کیسے ممکن ہے ؟ آج تک آپ نے کسی کو کہتے نہیں سنا ہو گا کہ میرا
وزن مائینس پچاس کلو ہے ۔ آپ نے صحیح سوچا ، یہ ممکن نہیں لیکن 2017 میں واشنگٹن سٹیٹ یونیورسٹی میں ایک عجیب و غریب تجربہ کیا گیا ۔ جہاں روبیڈیم نامی ایک دھات کو 273- ڈگری تک ٹھنڈا کیا گیا جو کائینات کا کم ترین ٹمپریچر ہے اور اس سے کم ٹمپریچر ممکن نہیں ۔ اس ٹمپریچر کو
absolute-zero
بھی کہتے ہیں اس ٹمپریچر پر لاز آف فزیکس عجیب ہوتے نظر آتے ہیں ، ہیلیم نامی گیس مائع
بن کر ٹھوس دیواروں اور ایئر ٹائیٹ کنٹینرز سے نکل جاتی ہے جسے
super-fluid
کا نام دیا گیا ، جو بذات خود ایک عجیب معمہ تھا ، روبیڈیم دھات کے پارٹیکلز الٹی جانب حرکت شروع کر دیتے ہیں جس سے
وہ
negative mass
کی طرح چیزوں کو دور دھکیلنا شروع ہو جاتی ہے ۔ اور کئی مزید عجیب دریافتیں جن کے لیے مجھے پورا ایک تھریڈ لکھنا ہو گا آسان الفاظ میں سمجھ لیں کہ کشش ثقل چیزوں کو ایک دوسرے کی طرف کھینچتی ہے اور
negative mass
چیزوں کو ایک دوسرے سے دور دھکیلتا ہے ۔
افسوس کہ ہم انسان
بہت محدود پیمانے پر یہ تجربات کر سکتے ہیں ، واشنگٹن سٹیٹ یونیورسٹی میں ہوا تجربہ تو بہت چھوٹے یعنی ایٹامک لیول پر ہوا تھا ، ایک حقیقی روزن بریج تو بیان سے بھی باہر کی طاقتور کشش ثقل کے درمیان گھرا ہو گا اور اسے کھولنے کے لیے بھی بیان سے باہر ہی کی طاقت درکار ہو گی جہاں سے انسان
ایک دوسرے عالم میں داخل ہو سکے ۔
کیا یہی دروازے آسمان کے وہ دروازے ہیں جہاں سے معراج کی رات نبی کریم ﷺ آسمان دنیا میں داخل ہوئے ؟ اور پھر ایک کے بعد ایک اور دوسرے اور تیسرے آسمان میں ، یہاں تک کہ ساتوں آسمانوں کے ساتوں دروازوں کے بارے میں حدیث میں یہی الفاظ استعمال ہوئے ہیں کہ
’’یہاں تک کہ فلاں آسمان آیا اور اس کا دروازہ کھولا گیا ۔‘‘
حدیث معراج میں کئی اور ایسی باتیں ہیں جنہیں میں سائینٹیفیک پہلو سے ڈسکس کرنا چاہتا ہوں لیکن ان کے لیے ان شاء اللہ مزید ایک تھریڈ لکھوں گا ، فی الوقت صرف اتنا کہوں گا کہ ان ناقابل تصور فورسز آف نیچر جن کے طاقت کے بارے
میں ہم بیان بھی نہیں کر سکتے ، حقیقی معنوں میں واقعہ معراج کے حوالے سے سورۃ نجم کی 18 نمبر آیت کی بڑائی اور تعظیم سمجھ آتی ہے کہ
’’بیشک اس نے اپنے رب کی بڑی ترین نشانیوں میں سے کچھ کو دیکھا ۔‘‘