وادی پیترہ

وادی پیترہ

5 min read
Furqan Qureshi

اس تھریڈ میں موجود تصاویر وادی پیترہ (اردن) کی ہیں ، آپ جانتے ہیں ان کی کیا خاصیت تھی ؟ میں آپ کو بتاتا ہوں ۔ 2400 سال پہلے کا تجارتی مرکز ۔ پہاڑوں کے اندر بسا شہر جس کے گرد مضبوط چٹانوں کی وجہ سے دشمن کا حملہ نہیں ہو سکتا تھا ، یہ راتوں کو میٹھی نیند سونے والے لوگ تھے ۔
ان کے بادشاہ کا نام اریتاز تھا جو بیس ہزار لوگوں پر حکومت کرتا تھا ۔ یونیسکو والوں نے اپنی تحقیق میں لکھا کہ ان لوگوں نے اپنی تعمیرات اس انداز میں کیں کہ خلیج عقبہ کا پانی بہہ کر ان کے پاس سے گزرتا تھا اور بارش کا پانی تہہ بہ تہہ ان کے پاس جمع ہوتا رہتا تھا ۔ اس تصویر کو دیکھیئے
Click to see

یہ وہ ایک کلومیٹر لمبا راستہ ہےہیں جن کی بلندی سے بارش کی بوندیں آتیں اور ڈھلوان ہونے کی وجہ سے جا کر ان محل والوں کی گود میں جمع ہو جاتیں ۔ اس راستے کا نام ’’سیق‘‘ ہے اور پیترہ کے محل پہنچنے کا یہی واحد مرکزی راستہ ہے ۔ 1812 میں جوہن لڈوگ نام کا ایک بھولا بھٹکا مسافر اس راستے میں داخل ہوا ، اور پیترہ کے محل کو ڈھونڈ بیٹھا ۔ اس محل کے بنانے والے اہل انباط تھے ، جو عزی ، لات اور منات کی عبادت کرتے تھے ۔

اپنے دور کی ایک بڑی تہذیب ؛ جس نے النجر نام کا ایک تھیٹر تعمیر کیا تھا ۔ اس تھیٹر کی ان دو تصویروں کو دیکھیئے ۔ اس میں ساڑھے آٹھ ہزار لوگ بیٹھتے تھے

Click to see

Click to see

دوسرے شہروں سے آنے والے بڑے بڑے شاعر ، ساحر ، آرٹسٹ اپنے اپنے ہنر کی نمائش کیا کرتے تھے ۔ اور اس ہی تھیٹر میں بادشاہ اریتاز ، لات ، عزی اور منات کے ساتھ عوام کو اپنا دیدار دیا کرتا تھا ۔ آپ جانتے ہیں کہ ان کے شرفاء کہاں رہتے تھے ؟ ذرا اس تصویر کو دیکھیئے
Click to see

ان میں سے کسی گھر پر وزیر کا نام لکھا ہے تو کسی گھر پر امراء کا ۔ کسی گھر پر پجاری کا نام درج ہے تو کسی گھر پر شہزادے کا ۔ پہاڑ کے قلعوں میں رہنے والے لوگ ، جو اپنے گھروں سے نکلیں تو تپتے صحراء میں اپنے ہاتھوں سے بنائے ٹھنڈے پانی کے نخلستان سے سیراب ہوں ۔ اس تصویر کو دیکھیئے
Click to see

محل کے سامنے بنا حوض جہاں پانی ٹھہرا کرتا تھا ۔

ان کے پاس تو شاید کسی چیز کی کمی نہ تھی ۔ بہتا پانی ، اُگے ہوئے درخت اور باغ ، چٹانوں میں بنے قلعے ۔ خود کو محفوظ مانتے لوگ ۔ نجانے کیوں ایک آیت ذہن سے گزری

"انہوں نے پتھروں میں مسکن تراشے ، خود کو محفوظ سمجھتے ہوئے"

الحجر 82
پھر ایسا کیا ہوا کہ اتنی عظیم تہذیب ختم ہو گئی ؟

اور ایسی ختم ہوئی کہ صحرائی قزاقوں نے خزانہ ڈھونڈنے کے لیے ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔ لیکن ان قزاقوں سے اپنے محل اور گھر بچانے کے لیے جواب دینے والا کوئی نہ تھا ؟

اب تو وہاں صرف صحراء میں چلتی ہوا کی سیٹیاں سنائی دیتی ہیں ۔
ایک ملٹی کلچرل شہر ، بادشاہ کی رہائش گاہ ، فن تعمیر میں آج کے ماڈرن شہروں سے کہیں آگے ۔ عزیٰ ، لات اور منات کی عبادت کرنے والے ۔

پتہ ہے دل کیا جواب دیتا ہے ؟

ان سے پہلے کتنے ہلاک ہو گئے ۔۔۔ کیا وہ نظر آ رہے ہیں ؟ کیا ان کی ہلکی سی آواز بھی سنائی دیتی ہے ؟
مریم 98