
ڈی این اے
انسان کے جسم کے حصے کیسے گواہی دے سکتے ہیں ؟
آج پوسٹ کیے گئے تھریڈ پر کچھ دوست ایک بہت دلچسپ ڈسکشن کر رہے تھے کہ کیا ہمارے ڈی این اے سے ڈیٹا
retrieve
کرنا ممکن ہے ؟
گائیز ڈی این اے پر تحقیق کے دوران مجھے چند بہت دلچسپ اور ناقابل یقین چیزیں ملیں جنہیں میں نے کئی ریسورسز سے کاؤنٹر ویریفائی کیا ، میں ان چیزوں کے بارے میں لکھنے سے پہلے یہ
assume
کر رہا ہوں کہ آپ ڈی این کے بارے میں بنیادی باتیں جانتے ہیں ۔
دراصل ڈی این اے پہلی دفعہ دریافت ہوا تھا 152 سال پہلے اور وہ بھی حادثے سے ، جس سائینسدان نے اسے دریافت کیا وہ درحقیقت
white blood cells
پر تحقیق کر رہا تھا اور اس نے اپنی تحقیق میں ڈی این کو ڈبل ہیلکس کے بجائے ٹرپل ہیلکس کے ساتھ بیان کیا ۔ یہ ایک انتہائی اہم بات ہے ۔
بعد میں جب ڈی این دنیا بھر میں معروف ہوا تو آج تک ہم اسے ڈبل ہیلکس ہی کے ساتھ سٹڈی کرتے آئے ہیں لیکن 1952 میں ایک دفعہ پھر ٹرپل ہیلکس کی باتیں سامنے آئیں ۔
اور دریافت یہ ہوا کہ چند نایاب اور مخصوص ڈی این اے واقعی دو کے بجائے تین
strands
رکھتے ہیں اور اسی تیسری
strand
میں ہماری ہر بائیلوجیکل حرکت کا ریکارڈ چھپا ہوتا ہے ۔ لیکن اس تیسرے
strand
کو ڈھونڈنا ممکن نہیں ہے کیوں کہ ہر ڈی این اے میں تین ارب سے زیادہ
bases
ہوتے ہیں ۔
لیکن بات یہاں پر نہیں رکتی بلکہ یہیں سے اصل بات شروع ہوتی ہے ۔ آپ سب جانتے ہیں کہ ڈی این اے نسل در نسل ٹرانسفر ہوتا ہے اور اگر یہ تیسری
strand
ہمارے ہاتھ لگ جائے تو ہم نہ صرف اپنی ساری زندگی کا ڈیٹا بلکہ اپنے سے پچھلی کئی نسلوں کا ڈیٹا
retrieve
کر سکتے ہیں کہ وہ کیا کچھ کرتے رہے
اس دریافت کو کبھی بھی پبلک نہیں کیا گیا کیوں کہ ایک تو تیسرے
strand
کو اپنی مرضی سے تلاش کرنا تقریباً ناممکن ہے دوسرا اس قسم کی ڈسکوریز بہت کم پبلک ہوتی ہیں جب تک ان پر تحقیق مکمل نہ ہو جائے ۔ البتہ یہ اس قدر بڑی ڈسکوری تھی کہ اس پر 12 انسٹالیشنز کی مکمل ایک ویڈیو گیم بنائی گئی جو
assassin's creed
کے نام سے مشہور ہے ۔ آپ سوچ سکتے ہیں یہ کس قدر بڑی دریافت ہے ؟ کہ آپ کا جسم ۔۔۔ آپ کی گواہی دے سکتا ہے کہ اس نے بائیولجکلی کیا کچھ کیا تھا ۔ اور نہ صرف آپ بلکہ نسل در نسل ٹرانسفر ہونے کی وجہ سے آپ اپنے آباؤ اجداد کی زندگی کے بارے میں بھی جان سکتے ہیں ؟
اگر سچ کہوں تو ہم ابھی ٹیکنالوجی کے بچپن میں ہیں ، ہم ابھی ٹیکنالوجی کی
adolescence
ہی میں ہیں کہ جب ہم نے چلنا بھی شروع نہیں کیا ، چھلانگ لگانا چاہتے ہیں ، وہ حاصل کرنا چاہتے ہیں جس سے ابھی ہم صدیوں دور ہیں اور قرآن نے کیسے ہماری پہنچ اور اللہ کی قدرت کو اس آیت میں بیان کیا
"انسان جلد بازی ہی میں بنا ہے ، تم جلدی نہ کرو ، میں عنقریب ۔۔۔ تمہیں اپنی نشانیاں دکھا دوں گا ؟"
الانبیاء 37
قرآن ۔۔۔ کسی انسان کی لکھی ہوئی کتاب نہیں ہو سکتی گائیز ! ناممکن ہے