قرآن اور عہد قدیم

قرآن اور عہد قدیم

13 min read
Furqan Qureshi

سورۃ طہ کی آیت نمبر 128 جس میں اللہ تعالی فرماتا ہے " اَفَلَمْ يَـهْدِ لَـهُـمْ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَـهُـمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ يَمْشُوْنَ فِىْ مَسَاكِنِـهِـمْ ۗ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيَاتٍ لِّاُولِى النُّـهٰى" جس کا اردو ترجمہ کچھ ایسے کیا گیا ہے۔ "کیا ان لوگوں کے لیے یہ بات بھی ہدایت کا باعث نہ ہوئی کہ ہم ان سے پہلے بہت سے لوگوں کو ہلاک کر چکے ہیں جن کے رہنے کے مقامات میں یہ چلتے پھرتے ہیں، اس میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔"

اس آیت میں قرون کا عمومی اردو ترجمہ بستیاں یا لوگ کیا گیا ہے، محاوراتی طور پر تو یہ ترجمہ صحیح ہے کیوں کہ اس ترجمے سے ان بستیوں اور اقوام کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے جن پر اللہ کا عذاب آیا جیسا کہ قوم لوط یا قوم عاد اور ان کی بستیاں وغیرہ۔ لیکن قرون کا لفظی مطلب نہ ہی بستی ہوتا ہے نہ ہی لوگ بلکہ عربی زبان میں قرن کا مطلب ایک دور، ایک عہد یا ایک زمانہ ہوتا ہے اور قرون اس ہی کی جمع ہے یعنی زمانے، عہد اور ادوار اور اس ہی سے اردو میں قرونِ اولیٰ یا قرونِ وسطیٰ جیسے الفاظ آئے۔ اس لیے ہی سورۃ قصص کی آیت 45 میں بھی قرون کا لفظ لمبے عرصے یا طویل مدت کے لیے آیا ہے۔ یعنی کہ اس آیت کا لغوی اعتبار سے ترجمہ کچھ ایسے ہوگا کہ "کیا ان کے لیے اس میں بھی ہدایت نہیں ہے کہ کیسے ہم نے ان سے پہلے کے عہد ہلاک کر دیے جن کے رہنے کی جگہوں میں یہ چلتے ہیں، اس میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔"

اب آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ انسان سے پہلے واقعاتی عہد گزرے ہیں اور اس سے بھی زیادہ حیرت کہ وہ عہد خود ہی سے ختم نہیں ہو گئے بلکہ ہلاک ہوئے تھے۔ اس زمین پر پانچ ایسے واقعات پیش آئے ہیں جنہیں انگریزی میں

mass extinctions

کہا جاتا ہے یعنی ایسے واقعات کہ جس میں زمین میں رہنے والے جانداروں کی 70% سے زیادہ آبادی ہلاک ہوگئی۔ جس کا میں اردو میں مختصر تعارف لکھوں گا تاکہ وہ آپ پر واضح ہو جائیں۔

آج تک دنیا میں جتنی بھی مخلوقات پیدا ہوئی ہیں ان میں سے 90% سے زیادہ مخلوقات اب معدوم ہو چکی ہیں مثال کے طور پر ولی میمتھ یعنی لمبے بالوں والا ہاتھی، آئیرش ایلک یعنی عظیم الجثہ ہرن، جاوا ناگرا، ڈو ڈو بلج، گرے وہیل، سفید ستیاں تو ماضی قریب کی مثالیں ہیں جبکہ، بائیلوسارس مگرمچھ، اسٹیلو ڈون سور، میگا لوڈون شارک ، گلیپٹوڈون کچھوا، دیو قامت میگا تھیریم چوہے، خوفناک دیکھنے والے شیر برڈ، سم لوڈون شیر اور ٹار میٹوبو ا جیسے ارضہ قدیم مثالیں ہیں۔

پہلی عظیم ہلاکت 44 کروڑ سال پہلے ہوئی اور اس عہد کا خاتمہ ہوا۔ ایسے ہی دوسری عظیم ہلاکت 36 کروڑ سال پہلے ہوئی جس میں 75 فیصد مخلوقات ہلاک ہوگئیں اور

devonian

عہد کا خاتمہ ہوا۔

تیسرا عہد جسے

permian

کہتے ہیں کا خاتمہ 25 کروڑ سال قبل ہوا اور اسے

greatdying

بھی کہتے ہیں کیوں کہ اس میں تقریباً 96% جاندار ختم ہو گئے تھے یا پھر ہر چار میں سے تین جاندار مر گئے ۔ اس کی وجہ سائبیریا سے 7 لاکھ کیوبک میل کے رقبے سے نکلنے والا لاوا تھا جس کی اہمیت کے بارے میں آگے چل کر لکھوں گا۔

چوتھی معدومیت

jurrasic

عہد کی تھی جو تقریباً 20 کروڑ سال پہلے ہوئی اور قریب 80 فیصد جاندار ختم ہو گئے۔ اس کے بعد 14 کروڑ سال کے عرصے پر محیط وقت میں زندگی بہت تیزی سے پھلی پھولی، جس کا ایک نتیجہ ڈائنوسارز تھے لیکن ان کا خاتمہ ایک ناگہانی چیز یعنی ایک شہاب ثاقب سے ہوا۔ جو آج کے نقشے کے مطابق میکسیکو سے ٹکرایا اور ٹکرانے کے بعد کئی ایک چیزیں ایک ساتھ ہوئیں جن میں ان گنت سونامی طوفانوں کا پیدا ہونا، کئی جگہ جنگل کی آگ کا جنم لینا اور زمین سے راکھ کا فضا میں کئی میل اوپر اٹھ کر کئی سال تک سورج کی روشنی کو روکے رکھنا شامل تھا جس کی وجہ سے زمین کا درجہ حرارت شدید گر گیا اور اس پانچویں اور آخری ہلاکت کو

cretaceous

عہد کا اختتام کہتے ہیں۔

آپ کو یاد رہے کہ میں نے سائبیریا سے چھوٹ پڑنے والے لاوا کا ذکر کیا تھا؟ سات لاکھ مربع میل یعنی کہ تقریباً پورے پاکستان کے رقبے جتنے علاقے سے لاوا اہل پڑنے کا ایک اثر زمین کے اندر موجود گیسز کا اخراج تھا جن میں بڑی مقدار میں سلفراس شامل تھی اور اس نے زمین کو تیزابی بارش میں ڈھک دیا جس سے زمین 80 لاکھ سال تک مردہ رہی تھی۔ اور اس میں کچھ اگانے کی اہمیت نہ تھی لیکن لاوا کے ساتھ زمین کے اندر سے نکلنے والی نئی گیسز اور ان کے ساتھ نکلنے والے منرلز نے زندگی کی وہ ورائٹی ممکن بنائی جو اس سے پہلے کبھی نہیں تھی۔ جس کی ایک مثال ڈائینوسارز ہیں۔ اور قرآن پاک میں یوں بہت سے مقامات پر مردہ زمین کے زندہ ہونے کا ذکر ہے لیکن میں بالخصوص سورہ روم کی آیت 50 کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جس میں اللہ پاک فرماتا ہے "اے دیکھنے والے! اللہ کی رحمت کے آثار دیکھ کہ کیسے وہ زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد زندہ کرتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔"

یہاں میں نے سورۃ روم کی ہی اس آیت کا کیوں انتخاب کیا؟ ایسا اس لیے کہ اس میں دو نکات بہت اہم ہیں کہ ایک تو اللہ تعالیٰ انسان کو نظر یعنی آنکھوں سے دیکھنے کا حکم فرما رہا ہے اور دوسرا اہم عربی لفظ ہے آثار جس کا اردو میں مطلب باقیات ہوتا ہے۔

آج اگر آپ نیوساؤتھ ویلز کے فریزنامی ساحلی پہاڑوں میں کھدائی کریں، یا گوبو(اٹلی) کے پہاڑوں میں یا اوماں کے صحرائی پہاڑوں میں جہاں یونیورسٹٰی آف ایڈینبرگ کے محققین نے بھی تحقیق کی تو آپ کو اس تیسری ہلاکت، اس سے نکلنے والے لاوا اور سلفرا کی بارش کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیاہ کوئلے کی پرت صاف نظر آئے گی اور اس بات کا ثبوت ملے گا کہ تیسری عظیم ہلاکت کے بعد اس دنیا میں آکسیجن کی شدید کمی ہو گئی تھی، سطح زمین کوئلے کی ایک پرت سے ڈھک گئی تھی، ہماری زمین ورچولی طور پر مردہ اور بنجر ہو گئی تھی اور اس زمین کو دوبارہ زندہ ہونے میں 80 لاکھ سال لگے تو میرے نزدیک سورہ روم کی اس آیت سے زیادہ یہ سچائی دلیل شاید کوئی انسان نہ دے سکے کہ دیکھو! اپنی آنکھوں سے دیکھو! ثبوت کی طرف دیکھو کہ کس طرح ہم نے اس زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندہ کیا۔

ان تمام واقعات کے متعلق ہم کیسے جانتے ہیں، اس زمین کے فاسلز نے کیسے ہمیں ان واقعات کے بارے میں بتایا اور فاسلز کا قرآن پاک میں کیسے ذکر ہے انشاء اللہ اس کے بارے میں اپنے اگلے آرٹیکل میں ذکر کروں گا۔