
تخلیق کے بروج
سورۃ حجر کی آیت نمبر 16 کافی عرصہ تک میرے دماغ میں معلق رہی ، اس کا ترجمہ ہے
"اور رکھ دیئے ہم نے آسمان میں بروج اور خوبصورت بنا دیا اسے دیکھنے والوں کے لیے"
لیکن کونسے برج ؟ میں نے اکثر لوگوں سے یہ سوال پوچھا لیکن کوئی ستارے کہہ کہ ٹال دیتا کوئی کیا اور کوئی کیا ۔
دسمبر 1990 میں ایک بہت بڑی دوربین خلاء میں لانچ کی گئی جس کا نام ہبل سپیس ٹیلی سکوپ رکھا گیا اور اس کا کام خلاء کے دور دراز علاقوں کی تصاویر لینا تھا ۔ 1995 میں اس ٹیلی سکوپ کو خلاء کے ایک ایسے ویران ایریا میں مرکوز کیا گیا جسے
serpens
کہتے ہیں ۔ پاکستان سے یہ علاقہ مغرب کی طرف ہے جہاں بہت کم ستارے نظر آتے ہیں ۔ یکم اپریل 1995 کو ہبل نے ایک تصویر کھینچی ، اور اس تصویر کو
space.com
نے کائینات کی دس خوبصورت ترین تصاویر میں شامل کیا ۔ درحقیقت یہ تصویر اس قدر خوبصورت تھی کہ اسے 2011 اور پھر 2014 میں دوبارہ نئے کیمروں سے کھینچا گیا ۔ اس تصویرمیں تین بلند و بالا ستون نظر آ رہے ہیں ، اس قدر بلند کہ روشنی اپنی تیز ترین رفتار کے باوجود ان کی بنیاد سے ان کی بلندی تک پہنچنے میں پانچ سال لیتی ہے ، اور ہم سے اس قدر دور کہ وہی روشنی ہم تک پہنچنے میں 7000 سال لے لیتی ہے ۔
لیکن ایک عجیب بات یہ کہ ایریزونا سٹیٹ یونیورسٹی کے ڈاکٹر جیف ہیسٹر نے اپنے دریافت کیے گئے ان ستونوں کو ایک بہت عجیب نام دیا ، وہی نام جس سے یہ آج بھی جانے جاتے ہیں ۔۔۔
"تخلیق کے بروج"
اب ذرا وہ تصویر دیکھیئے !
اس آیت اور پھر ان ستونوں کے بارے میں پڑھ کر میں کافی دیر تک خاموش رہا ۔ قرآن کے بالکل وہی الفاظ ، جو کتنی صدیوں بعد آج ایریزونا سٹیٹ یونیورسٹی میں گونج رہے ہیں ۔ زینت کے وہی قرآنی الفاظ جو بڑے بڑے سائینٹیفک جریدوں میں "کائینات کی دس مزین ترین چیزوں" کے نام سے چھپ رہے ہیں ۔
ابھی کیا کچھ سیکھنا باقی ہے ؟ اور کن کن رازوں سے پردہ اٹھنا ہے ؟ یہ سب کچھ کون دکھا رہا ہے ؟ کون سکھا رہا ہے ؟ ان بروج تک ہماری نظر کون لے کر گیا ؟
اور پتہ ہے ذہن میں کیا جواب آتا ہے ؟
علم الانسان مالم یعلم
"سکھا دیا انسانیت کو ، جسے وہ نہیں جانتا تھا"
العلق 5