ملکہ بلقیس کا تخت

ملکہ بلقیس کا تخت

15 min read
Furqan Qureshi

حضرت سلیمانؑ کی زندگی کا یہ عظیم اور پراسرار واقعہ سورۃ نمل کی آیت 23 سے شروع ہوتا ہے جہاں حضرت سلیمانؑ کا ہدہد ملکہ بلقیس کے بارے میں انہیں خبر دیتا ہے اور دو باتوں کا ذکر کرتا ہے جن میں سے دوسری بات ملکہ بلقیس کے تخت کی تعریف ہے ۔ یہ تھریڈ اس پورے قصے کو بیان کرنے کے لیے نہیں بلکہ اس روداد میں شامل ایک انتہائی حیرت انگیز واقعہ پر ہے ؛ جہاں حضرت سلیمانؑ نے اپنے سرداروں سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ ’’تم میں سے کون اس کے تخت کو میرے پاس اس کے آنے سے پہلے لائے گا ؟‘‘ اور اس کے جواب میں جنات میں سے ایک عفریت نے کہا کہ ’’میں اس تخت کو آپ کے پاس لا سکتا ہوں ، اس سے پہلے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں اور میں اس کام کے لیے طاقتور ہوں اور امانت دار بھی ۔‘‘ لیکن پھر اس کے بعد ایک ایسا شخص بول اٹھا ، جس کے پاس کتاب میں سے علم تھا کہ ’’میں اسے آپ کے پاس لا سکتا ہوں ، اس سے پہلے کہ آپ کی نگاہ آپ تک واپس پلٹے ۔‘‘

یہ مکمل واقعہ چوالیس نمبر آیت تک چلتا ہے لیکن اس تھریڈ کا مقصد ملکہ بلقیس کے تخت کا یمن سے فلسطین تک ، پلک جھپکنے میں پہنچنے کو سمجھنا ہے ۔ آپ کے ذہن میں یہی سوال چل رہے ہوں گے کہ فرقان یہ کیسے ممکن ہے ؟ وہ شخص کون تھا ؟ وہ کون سی کتاب کا کیسا علم تھا ؟

سنہہ 1935 میں ایک پیپر لکھا گیا جس کا نام

ERP-Paradox

تھا ، اس کے لکھنے والوں میں ایلبرٹ آئین سٹائین ، بورس پوڈولسکی اور نیتھن روزن کا نام شامل ہے ، اس پیپر میں ہونے والی دریافت کو ناممکن کا نام دیا گیا ، اس پیپر میں ایک جملہ لکھا گیا جو اس صدی کی فزیکس کے بڑے بڑے ناموں کی عقل کی عاجزی کا ثبوت ہے ۔ وہ جملہ ہے ’’نہ سمجھ آنے والا عجیب عمل‘‘ اور پیپر کے آخر میں ایک جملہ درج کیا گیا کہ ’’اس پر ہماری تحقیق ، ابھی نامکمل ہے ۔‘‘

اس ریسرچ پیپر پر 38 سال تک سٹڈی ہوتی رہی اور 1973 میں دنیا کی سب سے بڑی لیبارٹری

CERN

کے جان بیل نامی سائینسدان نے اس ناممکن دریافت کو ممکن قرار دے دیا ۔ لیکن اگر آپ سمجھ رہے ہیں کہ معمہ سلجھ رہا تھا تو آپ بہت غلط ہیں ، کیوں کہ جان بیل نے مزید کہا کہ یہ ممکن تو ہے ، البتہ جو ہو رہا ہے اس کے ہونے کی رفتار ناممکن ہے ۔

آپ یقیناً سوچ رہے ہوں گے کہ آخر میں کس چیز کے ہونے کی بات کر رہا ہوں ، گائیز ! آئین سٹایئن اور ان دو بڑے سائینسدانوں نے اپنے پیپر میں اس بات کی پیشن گوئی کی تھی کہ ایٹم کے سب سے چھوٹے ذرات یا جسے قوانٹم کی دنیا کہا جاتا ہے ، اس دنیا میں ایک ذرے کی خصوصیات ، کسی دوسرے ذرے پر منتقل ہو سکتی ہیں چاہے دونوں کے درمیان فاصلہ کروڑوں میل ہی کیوں نہ ہو ۔ انہوں نے اپنی دریافت کو ناممکن کہہ کر مزید تحقیق کے لیے چھوڑ دیا ۔ جان بیل نے اس بات کو ممکن تو کہا لیکن خصوصیات کی یہ منتقلی روشنی کی رفتار سے دس ہزار گنا زیادہ تیزی سے ہو رہی تھی جو ، کسی کی بھی سمجھ سے باہر تھی ۔

اس عجیب معمے پر تحقیق ہوتے مزید 40 سال گزر گئے اور 2012 میں چائینہ میں کچھ مزید تجربات ہوئے ۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ شاید اب یہ گتھی سلجھ جائے ، لیکن نہیں ، آپ پھر سے غلط ہیں ، معاملہ مزید اجھتا جا رہا تھا کیوں کہ چائینیز سائینسدانوں نے دریافت کیا کہ پہلے ذرے کی خصوصیات کروڑوں میل دور پڑے دوسرے ذرے پر نہ صرف منتقل کی کی جاسکتی ہیں بلکہ وہ اس پر مستقل قائم بھی رہ سکتی ہیں اور پھر ان سائینسدانوں پر جو بات ہتھوڑے کی طرح برسی وہ 2015 میں ہالینڈ کی ڈیلفٹ یونیورسٹی میں ہونے والا انکشاف تھا کہ خصوصیات منتقل ہونے کے بعد اگر پہلے ذرے کو ختم بھی کر دیا جائے تب بھی دوسرا ذرہ انہی خصوصیات کے ساتھ قائم رہتا ہے ۔

جی ہاں ، آپ صحیح نتیجے پر پہنچے ہیں کیوں کہ 2015 میں باقاعدہ طور پر یہ اعلان کیا گیا کہ انسان نے قوانٹم ٹیلی پورٹیشن کو دریافت کر لیا ہے ۔ اور خوشی اور ایکسائیٹمنٹ سے بھری اس سائینس کی دنیا میں تجربات تیزی پکڑ گئے ۔

چائینہ نے اپنے

QUESS

نامی پروجیکٹ کو بہت تیز کر دیا اس پروجیکٹ کا مقصد اس کے نام سے ظاہر ہے

quantum experiments at space scale

انہوں نے اگست 2016 میں

micius

نامی ایک سیٹلائیٹ لانچ کیا ۔ اور 16 جون 2017 وہ تاریخی دن تھا جب ہمارے زمانے کے انسان نے پہلی مرتبہ 1203 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک فوٹان کے ذرے کو ٹیلی پورٹ کر دکھایا ۔

قوانٹم دنیا کی اس ہلا کر رکھ دینے والی تحقیق نے بڑی بڑی لیبارٹریز میں تجربات کی رفتار دگنی کر دی اور فوٹان سے بڑے ذرات پر تجربے شروع ہوئے اور چائینہ ہی کے ایک سائینٹسٹ

Pan Jian-Wei

نے جرمنی کی ہائیڈل برگ یونیورسٹی میں روبیڈیم نامی دھات کے سو ملین ایٹمز کو تقریباً آدھے میٹر کے فاصلے پر ٹیلیپورٹ کیا ۔

روشنی کی رفتار سے تیز ؛ ایک جگہ سے دوسری جگہ ، چیزوں کا پلک جھپکنے میں پہنچ جانا ، آج ہماری نگاہوں کے سامنے ممکن ہے ۔ اور تیزی کے ساتھ پبلک کے سامنے بھی اور پوشیدہ لیبارٹریز میں بھی اس پر تجربات کیے جا رہے ہیں ۔ ہم اتنا ضرور جانتے ہیں کہ جانداروں کو ٹیلیپورٹ کرنے پر سنہ 2018 سے تحقیق ہو رہی ہے جس میں پودوں میں فوٹوسینٹھیسس کرنے والے مالیکیولز کو استعمال کیا جا رہا ہے ۔

انسان نے تو ابھی صرف اس حیرت انگیز اور ناقابل یقین ٹیکنالوجی کی صرف سطح کھرچی ہے ، لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوتی ۔ آپ کو یاد ہے کہ حضرت سلیمانؑ کے اس واقعہ میں ایک عفریت بھی تھا جس نے کہا تھا کہ میں طاقت رکھتا ہوں ، کہ آپ کے اٹھنے سے پہلے اس تخت کو لا سکتا ہوں ۔ یہ جان لیں کہ عفریت ؛ جنات کی ایک انتہائی پاورفل کیٹگری ہے ۔

اس واقعہ پر تحقیق کے دوران مجھے حسن عسکری کی کتاب ’’الکافی‘‘ پڑھنے کا اتفاق ہوا جس میں وہ لکھتے ہیں کہ تخت کا آنا ایسے ہی ممکن تھا کہ تخت اور ان کے درمیان فاصلہ سمٹ جائے ۔

یہ پڑھ کر مجھے حیرانی ہوئی ، یہ حیرانی اس بات پر نہیں کہ یہ کیسی فرضی کہانیاں ہیں ، بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ فاصلہ گھٹ جائے ۔۔۔ بلکہ یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ کیا واقعی اسلام پہلے ہی ہمیں عظیم فاصلوں کے گھٹنے اور بڑھنے کے بارے میں بتا چکا ہے ؟

اب جو بات میں آپ کو بتانے لگا ہوں وہ غور سے پڑھیئے گا ، روشنی ہمیشہ ایک سیدھی شعاع میں سفر کرتی ہے ، اس کا مڑنا یا روشنی کی شعاع کا خم ہو جانا ناممکن ہے لیکن 2011 میں لی گئی اس تصویر کو غور سے دیکھیئے ! آپ کو زرد رنگ کی اس کہکشاں کے گرد ایک سفید دائیرہ نظر آئے گا جو درحقیقت روشنی ہے جو ایک دائیرے کی صورت میں مڑی ہوئی ہے لیکن کیسے ؟ یہ کیسے ممکن ہے ؟ روشنی تو صرف سیدھی ہی سفر کر سکتی ہے ۔ اس کا صرف ایک ہی ممکن جواب ہے کہ کہکشاں کے گرد زبردست اور ناقابل تصور کشش ثقل کی طاقت نے خلاء کو موڑ دیا ہے ، جس کی وجہ سے روشنی بالکل ایک دائیرے کی صورت میں خم ہو چکی ہے ۔ اور اس دائیرے کے اندر کا تمام فاصلہ آپس میں سمٹ چکا ہے ۔

گائیز ! یہ کیسا مذہب ہے ؟ یہ کیسی کتاب ہے ؟ میں اپنی زندگی کی شرط لگا سکتا ہوں کہ یہ کتاب کسی انسان کی لکھی ہوئی نہیں ہو سکتی ۔ یہ سراسر ناممکن ہے ؛ اس قدر بڑے انکشافات لکھے ہیں اس کتاب میں ؟ صرف تین آیات کے اندر ہمیں اس ٹیکنالوجی کی خبر دی گئی ہے جس کے بارے میں صرف جاننے ہی میں انسان کو 3000 سال لگے ؟

وہ عظیم شخص جو اس تخت کو حضرت سلیمانؑ کے سامنے پلک جھپکنے میں لائے تھے ، وہ کون تھے ؟ ان کے پاس کونسی کتاب میں سے علم تھا ؟ ان کا نام قرآن پاک میں تو نہیں لکھا ، تاہم روایات میں ان کا نام آصف بن برخیا بتایا جاتا ہے ، اور یہ کہ وہ ایک انسان تھے اور حضرت سلیمانؑ کے معزز سرداروں میں سے ایک تھے ۔ البتہ وہ کتاب کونسی تھی ؟ ان کے پاس کتاب کا کیا علم تھا ؟ اور وہ کتاب اب کہاں ہے ؟ یہ راز شاید ہم کبھی نہ جان سکیں ۔