
جنت کے دروازے
ایک بہت خوبصورت وجہ ۔۔۔ کہ میں أکثر آپ کو احادیث نبویؐ سناتا رہتا ہوں ۔۔۔
وہ یہ ہے کہ نبی کریم حضرت محمد ﷺ نے ایک بار بتایا تھا کہ جس نے میری امّت کو چالیس احادیث یاد کروائیں ۔۔۔
وہ احادیث کہ جن سے وہ انہیں فائدہ پہچانا چاہتا تھا ۔۔۔ تو اسے یہ آزادی دے دی جائے گی کہ جنّت کے جس دروازے سے مرضی تم چاہو ، وہاں سے داخل ہو جاؤ ۔
(أبو نعیمؒ بروایۃ عبداللہ إبن مسعودؓ فی التفسیر در منثور ج 5 ص 951)
یہ سننے کے بعد ہو سکتا ہے کہ آپ نے حسب معمول سبحان اللہ کہا ہو لیکن میں چاہتا ہوں ۔۔۔ کہ ایک بار ذرا آپ اس کے آگے کا حال بھی سن لیں ۔
جنت کے ان دروازوں میں سے ایک دروازے کا حال ۔۔۔ صرف ایک دروازے کی ڈسکرپشن سن لیں اور پھر مجھے بتائیں کہ آپ کو کیسا محسوس ہوا ۔
یہ ڈسکرپشن حضرت علیؓ نے دی تھی اور اسے امام إبن مبارک نے اپنی کتاب ، کتاب الزہد میں ، إبن أبی دنیا نے اپنی کتاب صفات الجنۃ میں ، امام بیہقی نے اپنی کتاب البعث میں اور ضیاء مقدسی نے اپنی کتاب المختارہ میں بھی لکھا ہے اور ذرا ایک بار یہ ڈسکرپشن پڑھ لیں !
حضرت علی إبن أبی طالبؓ بتاتے ہیں کہ جنت دروازوں میں سے ایک دروازہ ایسا ہے کہ جس کے پاس پہنچتے ہی ۔۔۔ لوگوں کے چہروں پر تروتازگی نظر آنا شروع ہو جائے گی ۔
دیکھتے ہی دیکھتے ان کے بال سنور جائیں گے اور پھر کچھ بچے آئیں گے ۔۔۔ کہ جو ان کا استقبال کریں گے ۔
وہ آنے والے کے گرد ایسے بھاگیں دوڑیں گے کہ جیسے وہ اس سے بہت پرانے مانوس ہوں ۔
پھر ان میں سے ایک بچہ ۔۔۔ جنت میں موجود اس شخص کے گھر میں جائے گا اور اس کی خاتون کو بتائے گا کہ وہ شخص آیا ہے کہ جسے دنیا میں فلاں نام سے پکارا جاتا تھا ۔
وہ خاتون پوچھے گی کہ کیا تم نے اسے دیکھا ہے ؟
وہ کہے گا ہاں ، تو خاتون جلدی سے اٹھ کر انتظار کرتے دروازے کے قریب آ جائے گی کہ جہاں سے اس جنتی نے داخل ہونا ہے اور جب وہ داخل ہو گا ۔۔۔
تو وہ اس قدر خوبصورتی ، نور اور رنگوں کو دیکھے گا کہ اگر اللہ نے تکالیف کو ہمیشہ کے لیے ختم نہ کر دیا ہوتا ۔۔۔
تو اس نور اور ان رنگوں سے اس شخص کی آنکھیں فناء ہو جاتیں ۔
امیزنگ ۔۔۔ رائٹ ؟ 🙂
ایسے ہیں جنت کے دروازے ۔
سوچا کہ آپ کے ساتھ رات کے اس پہر ایک خوبصورت بات شیئر کر لوں ۔