
ڈی این اے اور قرآن کریم
اس تحریر کو لکھتے ہوئے مجھے پہلی دفعہ الفاظ کی کمی کا احساس ہوا لیکن پھر بھی ان شاء اللہ۔ آپ نے نوٹس کیا ہوگا کہ موسم کے بدلنے کے ساتھ پاکستان میں نت نئے پرندے آجاتے ہیں اور پھر موسم بدلنے کے ساتھ چلے بھی جاتے ہیں۔ ایسے ہی پاکستان کے شمالی علاقوں کے آتے رہنے زیادہ خوراک کھا کر غاروں میں سو جاتے ہیں اور فروری یا مارچ تک سوئے رہتے ہیں۔ یا پھر ساحل علاقوں میں رہنے والوں نے دیکھا ہوگا کہ کچھوے اپنے انڈے ریت میں چھپا دیتے ہیں، اور جب ان انڈوں سے بچے نکلتے ہیں تو سب سے پہلا کام وہ پانی کی طرف بھاگنے کا کرتے ہیں۔
آپ نے کبھی سوچا ہے ایسا کیوں ہوتا ہے؟ جانوروں کو یہ باتیں کس نے سکھائیں؟ کچھوے کے بچوں کو انڈے سے نکلتے ہی یہ کیسے پتہ چل جاتا ہے کہ پانی کی طرف بھاگنا ہے؟ یا حتی کہ انسان کے بچے کو پتہ چل جاتا ہے کہ دودھ کو کیسے ہضم کرنا ہے؟ یا چلیئے بچے کو چھوڑئیے تم نے سانس کیسے لینا ہے؟ یا اپنے دل کو سمجھایا تھا کہ تم نے دھڑکنا کیسے
دنیا کے کسی بھی جاندار کو لے لیں، آپ کو اس کے خلیوں کے اندر ایک
DNA
نامی مالیکیول ملے گا۔ تقریباً سب نے اس کی تصویر دیکھ رکھی ہوگی، یہ صرف خوردبین سے نظر آسکتا ہے اور دیکھنے میں ایک سیڑھی جیسا ہوتا ہے جس کی دونوں سائیڈز فاسفیٹس اور شوگر سے بنی ہوتی ہیں اور ان دونوں سائیڈز کو جوڑنے والے درمیانی لنکس
bases
کہلاتے ہیں۔
اب دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ بیسز صرف چار قسم کے کیمیکلز سے بنے ہوتے ہیں جن کے نام
adenine، guanine، cytosine, thymine
ہوتے ہیں۔ یہ کیمیکلز کبھی بھی چار سے نہ تو زیادہ ہوتے ہیں اور نہ ہی چار سے کم اور ڈی این اے کی
base
میں صرف ان ہی چار کیمیکلز کی ترتیب ہمارا جینیٹک کوڈ کہلاتی ہے۔
جینیٹک کوڈ کی یہی ترتیب جسم کو ہدایت دیتی ہے کہ ہماری آنکھوں کا رنگ کیا ہوگا؟ یہی ترتیب جسم کو ہدایت دیتی ہے کہ ہماری کتنی انگلیاں ہوں گی، یہی ترتیب ہمارے جسم کو ہدایت دیتی ہے کہ ہمارے بال گھنگھریالے ہوں گے یا سیدھے۔
اب یہ ہدایات
DNA
کے مختلف سیکشنز پر رکھی ہوتی ہیں اور ہر سیکشن
gene
کہلاتا ہے۔ یہ نسل در نسل آگے ٹرانسفر ہونے کی اہمیت بھی رکھتے ہیں اس لئے عموماً بچے دیکھنے میں اپنے ماں باپ جیسے ہی ہوتے ہیں۔ اور یہ اتنی باقاعدگی سے نسل در نسل ٹرانسفر ہوتے ہیں کہ 1990 میں نیشنل جیوگرافک سوسائٹی نے ایک پروجیکٹ شروع کیا تھا جس کا نام ہیومن جینوم پروجیکٹ تھا۔ جس کے تحت آپ انہیں اپنا ڈی این اے دیں اور وہ آپ کی کسی نسلوں کو ٹریس کرکے بتا دیتے تھے کہ آپ کے آباؤ اجداد دنیا کے کس حصے سے آئے تھے۔
اب ایک عجیب بات ! کہ صرف اور صرف ان چار کیمیکلز کی اتنی محتاط ترتیب بذات خود ایک معجزہ ہے کیوں کہ یہی ترتیب انسان کو، جانور، پھل، درخت سے مختلف کرتی ہے۔ یہاں تک کہ ہر انسان کا جینیٹک کوڈ دوسرے انسان سے بھی مختلف ہے اسی لیے جب کسی مجرم کو پکڑنا ہو تو اس کا ڈی این اے ٹریس کیا جاتا ہے اور یہ مت سمجھئیے گا کہ یہ ترتیب بالکل
random
ہے کیوں کہ جینیٹک کوڈ میں ذرا سی بھی بے ترتیبی کو
mutation
کہتے ہیں اور ذرا سی بھی بے ترتیبی آپ کی پانچ کے بجائے آٹھ انگلیاں اگا سکتی ہے۔ اگر آپ نے
x-men
سیریز دیکھی ہوں تو اس میں اسی
mutation
کو دکھایا گیا ہے کہ کیسے میوٹیشن کسی انسان کو بدل سکتی ہے۔
ہمارے ڈی این اے میں رکھی یہی ہدایات ہمارے جسم کو سمجھا رہی ہیں کہ تم نے کھانا کیسے ہضم کرنا ہے، یہی ہدایات سائبیریا کے پرندوں کو سمجھا رہی ہیں کہ تم نے سردیوں کے شروع ہونے سے پہلے پاکستان کی طرف پرواز کرنی ہے، یہی ہدایات رینگھنے کے جسم کو سمجھا رہی ہیں کہ برفباری میں ہائیبرنیشن کی نیند کے دوران انرجی کا استعمال کیسے کرنا ہے، یہی ہدایات کچھوے کے بچے کو انڈے سے نکلتے ہی سمجھا رہی ہیں کہ پانی کی طرف بھاگو! یہی ہدایات افریقن ہاتھی کے کان زیادہ بڑے کرواتی ہیں تاکہ ان کے عظیم الجثہ جسم کی حرارت زیادہ تیزی سے خارج ہو۔
لیکن ہمارے جینیٹک کوڈ میں اس قدر محتاط اور پرفیکٹ ہدایات کیسے پیدا ہوتی ہیں؟ ہر جاندار دیکھنے میں ایک دوسرے سے مختلف کیسے ہے حتی کہ ہر انسان دوسرے سے مختلف کیسے ہے؟ اور آپ کو پتہ ہے مجھے اس کا جواب کہاں جا کہ ملا؟ "اس نے کہا، ہمارا رب تو وہ ہے کہ جس نے سب کو اس کی واضح خلقت پر پیدا کیا اور پھر، اسے ہدایات دے دیں۔" طہ - 50
یہ آیت پڑھنے کے بعد میں کافی دیر تک مزید کچھ نہیں لکھ سکا، اس قدر عظیم ڈیٹیل۔۔۔ ان چند الفاظ میں؟ آپ کو یاد ہے میں نے شروع میں ذکر کیا تھا کہ یہ تحریر بناتے ہوئے مجھے الفاظ کی کمی کا احساس ہوا؟ آپ یقین کریں، میں نے بہت آسان اور بہت ہی کم الفاظ استعمال کیے ہیں ورنہ ڈی این اے میں لکھی ہدایات کے بارے میں میرے پاس اس قدر لکھنے کو ہے کہ بالآخر بہت ہی عاجز ہو میں اس آیت کی عظمت سمجھ کا معترف ہوگیا۔
اگر زمین میں تمام درخت قلم ہوں اور سمندر کا تمام پانی سیاہی ہو اور اس کے بعد سات سمندر مزید سیاہی ہوں تب بھی اللہ کی صفات ختم نہ ہوں ، اللہ ہی غالب اور حکمت والا ہے۔ لقمان - 27