جنگ قادسیہ اور ہاتھی

جنگ قادسیہ اور ہاتھی

12 min read
Furqan Qureshi

تاریخ کا ایک حیرت انگیز واقعہ ۔
نومبر کی انہی تاریخوں کی بات ہے کہ آج سے کوئی چودہ سو سال پہلے ۔۔۔
مدینے کی گلیوں میں ایک ہاتھی کو پھرایا گیا تھا ۔
اس وقت شہر میں زیادہ تر لوگ ایسے تھے ۔۔۔ کہ جنہوں نے ہاتھی نامی مخلوق کبھی اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھی تھی یہاں تک ۔۔۔
کہ جو شہر کی بڑی بوڑھی عورتیں تھیں وہ یہ سمجھ بیٹھیں کہ یہ شاید خدا کی کوئی نئی ہی مخلوق ہے یا پھر ۔۔۔ یہ کوئی بناوٹی سی چیز ہے ۔ (تاریخ طبری ج ۲ ص ۵۵۹)
لیکن اس معصوم داستان کے پیچھے ۔۔۔ درأصل ایک بہت بڑا واقعہ تھا ۔ ایک ایسا واقعہ کہ جس کی طاقت کا أصل إدراک ۔۔۔ میرا نہیں خیال کہ آج ایک عام مسلمان کو کبھی ہوا بھی ہو گا ۔
یہ ہاتھی دنیا کے جس خطّے سے آیا تھا وہ جگہ ۔۔۔ فارس کہلایا کرتی تھی یا پھر آج کی زبان میں ’’دی گریٹ پرشین ایمپائر‘‘
پرشین ایمپائر کہ جس کا ملٹری کمانڈر اُس وقت ۔۔۔ دنیا کا طاقتور ترین انسان سمجھا جاتا تھا اور جس کا نام تھا رُستم ۔۔۔ رُستم فرخ زاد اور نومبر کی یہی تاریخیں تھیں کہ جب ۔۔۔
عمر بن خطابؓ نے رستم اور اس کی ایمپائر سے ٹکر لینے کا فیصلہ کیا اور یوں ۔۔۔ شروع ہوئی قادسیہ کی عظیم لڑائی ۔
لیکن رستم ان عربوں کے متعلق کیا خیالات رکھتا تھا ؟ وہ آپ اُس کے اِس جملے کو پڑھ کر جان لیں گے ۔
قادسیہ میں جانے کے لیے رستم جب اپنے گھوڑے پر بیٹھا تو اس وقت ۔۔۔ اس نے ایک کے بجائے دو زرہیں پہنی ہوئی تھیں ۔ زرہ یعنی باڈی آرمر اور اس نے کہا کہ کل ۔۔۔ میں عربوں کو نیست و نابود کر کہ رکھ دوں گا ۔
تو اس کے جنرلز میں سے ایک جنرل نے کہہ دیا کہ ’’خدا نے چاہا تو ضرور‘‘
تو رستم نے فوراً اس کی بات کاٹی اور کہا کہ ’’خدا نے نہ بھی چاہا تو ضرور‘‘ ۔۔ (تاریخ طبری ج ۲ ص ۷۱۵)
اور یوں ۔۔۔ یہ لوگ اس چیز کو لے کر عربوں کے سامنے آ گئے کہ جنہیں اس سے پہلے ۔۔۔ بہت ہی کم لوگوں نے دیکھا ہوا تھا ۔
ہاتھی ۔۔۔ لحیم شحیم گانجہ اور افیم پلائے تینتیس بڑے بڑے ہاتھی کہ جن میں سے سب سے بڑے کا رنگ ۔۔۔ حیران کن حد تک سفید تھا ۔ شاید وہ کوئی بہت ہی نایاب قسم کا البینو ہاتھی ہو ۔
تینتیس ہاتھیوں کا ایلفا میل کہ جو قد میں سب سے بڑا اور طاقت میں سب سے زیادہ تھا اور یہی وہ سفید ہاتھی تھا کہ جس نے ۔۔۔ ابو عبید الثقفیؓ ۔۔۔ یعنی مسلم فرنٹ کے ایک بہت بڑے کمانڈر کو اپنے پیروں کے نیچے دے دیا تھا ۔ (کتاب فتوح البلدان)
اب مسئلہ یہ تھا کہ عربوں کے ساتھ ساتھ عربوں کے گھوڑوں نے بھی ۔۔۔ کبھی ہاتھی نہیں دیکھے تھے اور وہ ان سے بہت زیادہ ڈر رہے تھے ۔
لیکن عربوں نے پھر اس کا یہ حل نکالا کہ انہوں نے اپنے اونٹوں کو بڑی بڑی کالی چادریں پہنا دیں کہ جن سے پرشیئنز کے گھوڑے بھی گھبرانے لگ گئے اور یوں ۔۔۔ مسلمانوں کو تھوڑا سا حوصلہ مل گیا لیکن پھر بھی ۔۔۔
پرشیئنز نے اپنے گھوڑوں کے درمیان زنجیریں باندھی ہوئی تھیں کہ جس کا مقصد صرف ایک تھا ۔ کہ کسی طرح سے بھی ۔۔۔ بیٹل فارمیشن نہ ٹوٹے ۔
بہرحال چار دن تک گھمسان کی لڑائی جاری رہی کہ جن میں سے ہر ایک دن کے لیے ۔۔۔ تاریخ میں علیحدہٰ ایک نام رکھا گیا ہے اور تیسری رات کا نام تھا ’’لیلۃ الحریر‘‘ یعنی ۔۔۔ چیخوں والی رات ۔
ایسا اس لیے کیوں کہ عموماً ۔۔۔
سورج غروب ہونے کے ساتھ دونوں اطراف سے لڑائی ۔۔۔ روک دی جاتی تھی لیکن لیلۃ الحریر کی رات کو نہیں ۔ دونوں طرف کے جنگجو تھکن سے بے حال تھے لیکن لڑائی رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی ۔ پوری رات نہ کسی نے کچھ کھایا اور نہ کسی نے آرام کیا ، بس ہاتھوں میں اسلحے اور زبانوں پر چیخیں اور للکاریں اور یہیں سے پھر اس رات کا نام ہوا ۔۔۔ لیلۃ الحریر ۔۔۔ چیخوں والی رات ۔
اس رات چار سگے بھائیوں کی بھی شہادت ہوئی تھی کہ جو بالخصوص قابل ذکر ہے ۔
ان بھائیوں کی ماں کا نام تھا خنساء ۔۔۔ کہتے ہیں کہ وہ عرب کی ایک شاعرہ تھیں کہ جن کا ایک بھائی کسی زمانے میں ۔۔۔ مسلمانوں کے ساتھ لڑائی میں مارا گیا تھا جبکہ دوسرا بھائی ۔۔۔ اپاہج ہو گیا تھا ۔
ایک سال تک خنساء نے اپاہج بھائی کی تیمارداری کی لیکن سال بعد وہ بھی موت پا گیا اور تب ۔۔۔ غم کی اس آگ میں خنساء نے ایسی ایسی شاعری اور مرثیئے لکھے کہ کہتے ہیں عرب کے بڑے بڑے شعراء بھی اس کے آگے ۔۔۔ خاموش ہو جایا کرتے تھے ۔
لیکن پھر ایک وقت آیا کہ وہ مسلمان ہو گئیں اور اپنے مرثیوں سے پورے عرب کو رلانے والی خنساء کو جب ۔۔۔ ان کے چار بیٹوں کی شہادت کی خبر دی گئی تو انہوں نے صرف اتنا کہا کہ الحمد للہ ۔۔۔ امید ہے کہ اللہ انہیں اپنی جنت میں بھی جگہ دے گا (أسد الغابہ ج ۷ ص ۸۹)
لیلۃ الحریر کے بعد بالآخر اگلے دن ۔۔۔ رستم کی موت اور مسلمانوں کی فتح تک لڑائی جاری رہی اور جب سعد بن وقاصؓ نے ایک آدمی کو فتح کی خبر دے کر مدینہ بھیجا ۔۔۔
اور اب جو بات میں آپ کو بتانے والا ہوں اسے آپ نے پڑھنے کے ساتھ ساتھ امیجن بھی کرنا ہے ۔
کہ مدینہ میں عمر بن خطابؓ ۔۔۔ شدید قسم کے منتظر تھے کہ کب قادسیہ سے کوئی خبر آئے اور الکامل فی التواریخ میں لکھا ہے کہ آپ ۔۔۔ فجر کی نماز کے بعد شہر سے باہر جا کر عراق جانے والی سڑک پر کھڑے ہو جاتے اور ہر آنے والے سے پوچھتے کہ کیا کوئی خبر آئی ہے ؟
اب ذرا امیجن کریں ۔
بالآخر قادسیہ سے گھڑسوار مدینہ پہنچتا ہے ۔۔۔ عمر بن خطابؓ کے پاس سے گزرتا ہے اور عمرؓ اس سے پوچھتے ہیں کہ کہاں سے آئے ہو ؟
وہ بغیر رکے اونچی آواز میں بتاتا ہے کہ قادسیہ سے آیا ہوں ۔۔۔ اور پھر بغیر رکے ، عمرؓ کو بغیر پہچانے تیزی سے آگے بڑھ جاتا ہے کیوں کہ اس نے خلیفہ کو ایک بہت بڑی خبر پہنچانی ہے ۔
اور عمرؓ اس کے گھوڑے کے ساتھ ساتھ بھاگنے لگ جاتے ہیں اور اسے آوازیں دیتے ہیں کہ بتاؤ تو سہی کہ وہاں ہوا کیا ہے ؟ اور وہ بس ایک ہی بات کہے جا رہا ہے کہ اللہ نے مشرکوں کو ہرا دیا ۔۔۔ اللہ نے مشرکوں کو ہرا دیا ۔
یہاں تک ۔۔۔ کہ گھڑ سوار کو احساس ہوتا ہے کہ جو شخص گھوڑے کے ساتھ ساتھ بھاگ رہا ہے ، راستے میں کھڑے لوگ اسے امیر المومنین کہہ کر پکار رہے ہیں تو وہ اچانک رکتا ہے اور کہتا ہے کہ آپ ۔۔۔ آپ ہی امیر المومنین ہیں ؟
تو عمر بن خطابؓ سانسیں بحال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تو کیا ہوا ، تم قادسیہ کا بتاؤ ! تو کیا ہوا تم قادسیہ کا بتاؤ ۔ (الکامل فی التواریخ ج ۴ ص ۳۱۵)
پھر آپ نے وہیں مجمعے میں ایک عظیم خطبہ بھی دیا تھا کہ سن لو ۔۔۔ میں تمہارا بادشاہ نہیں بلکہ صرف ایک خلیفہ ہوں ۔ اللہ نے ہمیں فتح دی اور میں چاہتا ہوں کہ میں تمہیں تعلیم دوں ۔۔۔ محض باتوں سے نہیں بلکہ اپنے کردار سے ۔
پتہ ہے ۔۔۔ ایون کہ اگر کوئی مسلمان نہیں ہے تب بھی ۔۔۔ ورلڈ ہسٹری پڑھنے کے بعد وہ اتنا ضرور مانے گا کہ صحابہ ۔۔۔ تاریخ کے اوراق گزرے بہترین کردار والی شخصیات تھے ۔
اور میں ۔۔ میرا نام فرقان قریشی ہے اور میرا کام ۔۔۔ تاریخ کی نایاب کتابوں میں موجود نادر علوم کو اکٹھا کر کہ ۔۔۔ اسے آسان زبان میں ترجمہ کر کہ ۔۔۔ پھر آپ کی خدمت میں پیش کرنا ہے ۔
اپنی اس کوشش کی جھلک ، قادسیہ کے معرکے کے ذکر کے ساتھ ۔۔۔ آج میں نے آپ کو اس لیے دکھائی ہے کیوں کہ آج ۔۔۔ یعنی بیس نومبر ۔۔۔ بیٹل آف قادسیہ کی فتح کی تاریخ ہے لیکن آج رات ۔۔۔
میری ایک اور ویڈیو بھی ریلیز ہونے والی ہے کہ جس میں ماضی کے بجائے ۔۔۔ مستقبل کی کچھ انفارمیشن موجود ہے ۔
کچھ بہت ہی نایاب انفارمیشن کہ جو دجّال ، یأجوج و مأجوج اور حضرت عیسیٰؑ کے ایک حیرت انگیز معجزے کے متعلق ہے ۔
کیا انفارمیشن ؟ یہ تو آپ کو آج رات ایک بہت ہی سپیشل قسط دیکھ کر ہی پتہ چلے گا لیکن میں وعدہ کرتا ہوں کہ إن شاء اللہ آج رات ۔۔۔
اس ایک گھنٹہ طویل سپیشل ایپیسوڈ کے اندر ۔۔۔ آپ کچھ بہت ہی زبردست دیکھنے والے ہیں ۔